ﭼﻠﻮ ﺍﭼﮭﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﻧﮯ

ﭼﻠﻮ ﺍﭼﮭﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﻧﮯ  ﭼﻠﻮ ﺍﭼﮭﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﻧﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﺗﺮﮎ ﮐﺮ ﮈﺍﻟﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﻭﯾﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﺗﻨﺎ ﺑﮍﺍ ﺭﺷﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﺟﺴﮯ ﮨﺮ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﻮ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﺒﻮﺭﯼ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﻓﺮﻕ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺧﻮﺷﯽ ﮨﮯ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺭﺷﺘﮯ ﮐﻮ ﻣﺠﺒﻮﺭﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﭼﻠﻮ ﺍﭼﮭﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺭﯾﺎ ﮐﺎﺭﯼ ﻧﮩﯿﮟ مزید پڑھیں

جتنی دعائیں آتی تھیں

جتنی دعائیں آتی تھیں جتنی دعائیں آتی تھیں سب مانگ لیں ہم نے جتنے وظیفے یاد تھے سارے کر بیٹھے ہیں کئی طرح سے جی کر دیکھا ہے کئی طرح سے مر بیٹھے ہیں لیکن جاناں کسی بھی صورت تم میرے ہو کر نہیں دیتے

خاموشی رات کی دیکتھا ہوں اور تجھے سوچتا ہوں

خاموشی رات کی دیکتھا ہوں اور تجھے سوچتا ہوں خاموشی رات کی دیکتھا ہوں اور تجھے سوچتا ہوں مد ہوش اکثر ہوجاتا ہوں اور تجھے سوچتا ہوں ہوش والوں میں جاتا ہوں تو الجھتی ہے طبعیت  سو با ہوش پڑا رہتا ہوں اور تجھے سوچتا ہوں تو من میں میرے آ جا میں تجھ میں مزید پڑھیں

گنگناتے ہوئے جذبات کی آہٹ پا کر

گنگناتے ہوئے جذبات کی آہٹ پا کر

گنگناتے ہوئے جذبات کی آہٹ پا کر گنگناتے ہوئے جذبات کی آہٹ پا کر رُوح میں جاگنے والی ہے کوئی سرگوشی آکسی خوف میں اُتریں کسی غم کو اوڑھیں کسی اُجڑے ہوئے لمحے میں سجائیں خود کو تھام کر ریشمی ہاتھوں میں ہوا کی چادر رُوح میں گھول لیں تاروں کا حسیں تاج محل جی مزید پڑھیں

تو بدلتا ہے تو بے ساختہ میری آنکھیں

تو بدلتا ہے تو بے ساختہ میری آنکھیں اپنے ہاتھوں کی لکیروں سے الجھ جاتی ہیں تجھے مناؤں کہ اپنی انا کی بات سنوں الجھ رہا ہے مرے فیصلوں کا ریشم پھر

اپنی ہی آواز کو بے شک کان میں رکھنا

اپنی ہی آواز کو بے شک کان میں رکھنا

اپنی ہی آواز کو بے شک کان میں رکھنا لیکن شہر کی خاموشی بھی دھیان میں رکھنا میرے جھوٹ کو کھولو بھی اور تولو بھی تم لیکن اپنے سچ کو بھی میزان میں رکھنا کل تاریخ یقیناً خود کو دہرائے گی آج کے اک اک منظر کو پہچان میں رکھنا بزم میں یاروں کی شمشیر مزید پڑھیں

کسے بزم شوق میں لائیں ہم دل بے قرار کوئی تو ہو

نہ حریف جاں نہ شریک غم شب انتظار کوئی تو ہو کسے بزم شوق میں لائیں ہم دل بے قرار کوئی تو ہو کسے زندگی ہے عزیز اب، کسے آرزوئے شب طرب مگر اے نگار وفا طلب ترا اعتبار کوئی تو ہو کہیں تار دامن گل ملے تو یہ مان لیں کہ چمن کھلے کہ مزید پڑھیں

کسی جانب سے بھی پرچم نہ لہو کا نکلا

کسی جانب سے بھی پرچم نہ لہو کا نکلا اب کے موسم میں بھی عالم وہی ہو کا نکلا دست قاتل سے کچھ امید شفا تھی لیکن نوک خنجر سے بھی کانٹا نہ گلو کا نکلا عشق الزام لگاتا تھا ہوس پر کیا کیا یہ منافق بھی ترے وصل کا بھوکا نکلا جی نہیں چاہتا مزید پڑھیں